#ہم_کو_اداس_چھوڑ_کر_چلا_گیا کاشف ہمارے گاوں کا ایک ایسا لڑکا تھا جو ہر کسی سے محبت بھرے انداز میں پیش آتا تھا ۔ ہر کوئی کو لگتا تھا کہ وہ صرف مجھ سے پیارے بھر لہجے میں بات کرتا ہے لیکن یہ انکی صلاحیت تھی کہ وہ ہر ایک سے نرمی اور پیار سے بات چیت کرتے تھے کاشف میرے بچپن کا دوست تھا ہم ہمیشہ ساتھ ہوتے تھے کسی بھی معاملے میں کھبی ساتھ دیتا تھا تو کھبی حریف بن جاتا تھا لیکن کبھی ایسا نہیں لگا تھا کہ ہمارے دوستی حتم ہو جائے گی کاشف میرا ایسا دوست تھا کہ اس نے عربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑی تھی اور بچپن میں بازار میں محتلف دکانوں میں نوکری کرتا تھا وہ گھر کا خرچہ چلاتا تھا وہ گھر کا واحد لڑکا تھا جو رسم و رواج سے باخبر تھا جب میں سکول کے دوستوں کے ساتھ سیر کے لئے جاتا تھا تو کاشف ہمارے ساتھ ہوتا تھا ہم ایک ساتھ کرکٹ کھیلتے تھے اور ساتھ ہر عید میں سیر کے لئے جاتے تھے میں اور کاشف گرمیوں میں فجر کے بعد واک کرتے تھے اور گپ شپ لگاتے تھے کاشف نے بروز منگل کو پورے گاوں کے لوگوں سے رحصت لے لی اور دس دن کے لئے کراچی روانہ ہوئے ہم کو کیا پتہ تھا...
Popular posts from this blog
#حکیم_صاحب آپ لوگوں سے ایک ایسی شخصیت کی تعارف کرانا چاہتا ہو کہ جس نے زندگی میں بہت سے مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا ہے زندگی کے ایسے لمحات گزارے ہے جو درد اور غم سے ڈھکی ہے ایسا انسان ہے کہ جس نے جوانی کے لمحات طلبہ کی سب سے بڑی اور منظم تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ میں گزارے ہے زمانہ طالبعلمی میں دین کی راہ میں بہت سی قربانیاں دی ہے ہر وقت دین کی کام میں مصروف عمل رہتا تھا دین کی راہ میں بہت سی تکالیف اور ازیتیں برداشت کی ہے دین کی فہم کے لئے بڑے بڑے علماء کرام سے علمی واسطہ پڑا ہے انکی زبانی وہ کہہ رہا تھا کہ زمانہ طالبعلمی میں تحریک اسلامی کے بانی جناب سید ابوالاعلی مودودی رح سے تین دفعہ ملاقات ہوئی ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے دین کی صحیح تشریح ان سے سیکھا ہے انکا شمار بونیر جمعیت کے بانیوں میں ہوتا ہے کیونکہ حاجی فضل رازق مرحوم صاحب کے ساتھ تحریکی اسلامی کا کام کیا ہے جب زمانہ طالبعلمی میں مالی مشکلات زیادہ ہوئے تو بونیر سے ہجرت کرنی پڑی اور روشنیوں کے شہر کراچی کا رخ کیا جس کی وجہ سے تعلیم پر بھی اثر پڑی اور تعلیم سے دور ہوئے شہر کراچی میں وہ ...
Elum mountain
#وادی_ایلم وادی ایلم بونیر کی وہ وادی ہے جو سطح سمندر سے 8000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ وادی اپنی خوبصورتی اور دلکش نظاروں کی وجہ مشہور ہے۔ وہاں کے چشمے اور ابشاریں وادی ایلم کی خوبصورتی کی عکاسی کرتا ہے۔ وہاں کے لوگ امن پسند،محنت کش،اور مہمانواز ہیں۔ یہ اس وادی میں امن اور خوشحالی ہے۔لیکن بونیر کی انتظامیہ نے وادی ایلم والوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہیں۔ وہاں لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے پرائمری سکولز تو ہیں لیکن سٹاف نہ ہونے کے برابر ہیں ۔بچے اپنی ذمہ داری تو پوری کررہی ہیں لیکن سٹاف اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہیں۔یہ لوگ ہسپتال کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔وہاں کی سڑک انتہائی خستہ خالی کا شکار ہیں۔یہ سڑک سابق صوبائی سپیکر جناب بخت جہان کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔لیکن حکومت ختم ہونے کی وجہ سے اس سڑک پر دوبارہ کام نھیں ہوا۔اس سڑک پر جیپ کے علاوہ دوسری گاڑیوں کا جانا ناممکن ہیں۔وہاں بجلی کی بھی ناقص صورت حال ہیں۔وہاں بجلی کی کمبے تو ہیں لیکن اس میں بجلی نھیں ہیں۔ان لوگوں کا کہنا تھا کہ جب الیکشن قریب آتا ہے تو مختلف سیاسی پارٹیوں کے لوگ وادی ایلم میں ڈیرے ڈالتے ہیں اور...











Comments
Post a Comment